دل ڈھڑ کنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں جب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر تیرا وعده شب یاد آیا
حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایہ گل میں مرشد
ہم بہت روئے جب وہ یاد آیا
دل ڈھڑ کنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
Babu Ki Sparrow
0
ایک تبصرہ شائع کریں