Top News

دل ڈھڑ کنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا

دل ڈھڑ کنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں جب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر تیرا وعده شب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایہ گل میں مرشد ہم بہت روئے جب وہ یاد آیا

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی