اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے پکھر جاؤں گا
اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں گا
لے کے میرا پتا وقت رائیگاں نہ کرو
میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کہاں جاؤں گا
اس طرف دھند ھے، جگنو ہے نہ چراغ کوئی
کون پھچانے گا بستی میں اگر جاؤں گا
زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا
تو جہاں مجھ سے کھے گا میں اُتر جاؤں گا
پھول رہ جائیں گے گلدانوں میں یادوں کی نذر
میں تو خُوشبو ہوں فضاؤں میں پکھر جاؤں گا
اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے پکھر جاؤں گا
Babu Ki Sparrow
0
ایک تبصرہ شائع کریں