Top News

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے پکھر جاؤں گا

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے پکھر جاؤں گا اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں گا لے کے میرا پتا وقت رائیگاں نہ کرو میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کہاں جاؤں گا اس طرف دھند ھے، جگنو ہے نہ چراغ کوئی کون پھچانے گا بستی میں اگر جاؤں گا زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کھے گا میں اُتر جاؤں گا پھول رہ جائیں گے گلدانوں میں یادوں کی نذر میں تو خُوشبو ہوں فضاؤں میں پکھر جاؤں گا

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی