Top News

دل کی راہوں میں سوئے دار چلتے ہیں

دل کی راہوں میں سوئے دار چلتے ہیں آنسوؤں کی لہروں پے گزارے گئے سال چلتے ہیں یادوں کے سفینوں کو اب خارآسا کیا کریں ہم تو روئے غم سے نہیں، آباد چلتے ہیں محبتوں کے ہمسفر کب تک رہیں صحرا ہمیں دشتوں کے پھولوں کی طرح بےباد چلتے ہیں تنہائیوں کی راہوں میں دستاں اُڑ گئی ہے پلوں پلوں کے ساتھ ہم سآگر چلتے ہیں چاندنی راتوں میں بھٹک رہی ہو تم ساتھ ہمارے ہم تو تاروں کی طرح رات چلتے ہیں جنوں کی تکلیفوں میں کچھ کہنا بھی بہت مشکل ہے ہم تو خاموشیوں کے رازدار چلتے ہیں مر جائیں تو کیا، پھولوں کے خزاں ہونگے ہم ہم تو اس موت کی تجھے ریاست چلتے ہیں میرے دل کے کسی کونے میں سوئے خیال ہوگا جو تجھے ہم جیتے جی اباد چلتے ہیں Send a message Free Research Preview. ChatGPT

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی